صفحات

Sunday, 20 October 2013

ہو جائے کسی طور جو تکمیلِ تمنّا


ہو جائے کسی طور جو تکمیلِ تمنّا
لہجوں میں اتر آئے گی تفضیلِ تمنّا

سنتا رہا تاویلِ جفا اُس کی زباں سے
بہتا رہا آنکھوں سے مری نیلِ تمنّا

اُس صورتِ مریم کو سرِ بام جو دیکھا
سینے میں اتر آئی اک انجیلِ تمنّا

ایسا بُتِ کافر ہے کہ دیکھا نہیں مُڑ کر
ہر چند کہ ہوتی رہی تعلیلِ تمنّا

مدّھم ہوئی آنکھوں میں تو پھر دل میں جلا لی
پر بجھنے نہیں دی کبھی قندیلِ تمنّا

اُس عہدِ اذیّت میں اتارا گیا مجھ کو
جس عہد میں ہوتی رہی تذلیلِ تمنّا

(محمّد بلال اعظم)​

1 comment:

  1. بہت خوب بلال ۔۔۔۔!

    یہ غزل بہت خوب ہے آپ کی۔

    خاص طور پر یہ شعر تو لاجواب ہے۔


    مدّھم ہوئی آنکھوں میں تو پھر دل میں جلا لی
    پر بجھنے نہیں دی کبھی قندیلِ تمنّا


    ایک اچھی غزل پر مبارکباد وصول کیجے۔

    ReplyDelete