صفحات

Sunday, 17 November 2013

پھر دل میں سلگ اٹھی ہے زنجیر کی خواہش


پھر دل میں سلگ اٹھی ہے زنجیر کی خواہش
اب خواب ہیں مطلوب نہ تعبیر کی خواہش

پاگل دلِ ناداں تھا کہ کرتا رہا شب بھر
خوابوں کی حویلی میں کسی ہیر کی خواہش


یہ بارِ محبت تو سنبھالے نہیں سنبھلا
اور اُس پہ سِوا سلسلۂ میرؔ کی خواہش


ناداں تھے وہ انسان، جو ڈھاتے رہے دیوار
معمار تو کرتا رہا تعمیر کی خواہش!


رہتا ہوں مقامِ مہ و انجم سے بھی آگے
پر دل میں ہے کچھ اور بھی تسخیر کی خواہش

(محمد بلال اعظم)

3 comments:

  1. کمال اسست 👌👌👌👏👏👏👏

    ReplyDelete
  2. When you will add some prominent poets like Qabil Ajmeri, Mohsin Bhopali, Peerzada Qasim

    ReplyDelete