صفحات

Saturday, 12 July 2014

عشق کا نام تو آزار بھی ہو سکتا تھا


عشق کا نام تو آزار بھی ہو سکتا تھا
ہجر سہنا کبھی بیکار بھی ہو سکتا تھا

جرم کی آگ میں جھلسا ہے جو معصوم سا پل
 اگلے وقتوں کا یہ معمار بھی ہوسکتا تھا

 برف نے ڈھانپ رکھا ہے جسے اب تک سوچو
آتشِ قہر کا کوہسار بھی ہو سکتا تھا

ہے عجب رزق کی تقسیم، تو ترسیل عجب
جو ہے محدود و بسیار بھی ہو سکتا تھا

 یوں تو دنیا نے دیئے غم ہیں بہت سے مجھ کو
ورنہ غم تیرا گراں بار بھی ہوسکتا تھا

خیر ہو قیس کی صحرا کو بنایا مسکن
دلِ وحشی تھا یہ خونخوار بھی ہو سکتا تھا

شمع جل کر بھی نہ جل پائی، مگر پروانہ
عشق میں تھوڑا سمجھدار بھی ہوسکتا تھا

میں نے چاہا نہ کبھی خود کو نمایاں کرنا
میرے قدموں میں یہ سنسار بھی ہوسکتا تھا

 وہ تو اچھا ہے کہ سمجھا نہ زمانہ مجھ کو
 ورنہ منصور، سرِ دار بھی ہوسکتا تھا

تجھ پہ سایا ہے تری ماں کی دعاؤں کا اسدؔ
شکر کر راندہِ دربار بھی ہوسکتا تھا

(اسد قریشی)

No comments:

Post a Comment