صفحات

Saturday, 12 July 2014

میرے کمرے میں کہیں رات پڑی ہو جیسے


میرے کمرے میں کہیں رات پڑی ہو جیسے
سرمئی شام اسے ڈھونڈ رہی ہو جیسے

خواب تو جل کے دھواں کب کا ہوا ہے لیکن
 ایک چنگاری کہیں اب بھی دبی ہو جیسے

ایک گزرے ہوئے لمحے میں پڑا ہوں کب سے
 زندگی رکھ کے مجھے بھول گئی ہو جیسے

ہاتھ میں ہاتھ مگر پھر بھی یہ لگتا ہے مجھے
 تُو بہت دور بہت دور کھڑی ہو جیسے

اشک پلکوں کے کناروں سے  اُمڈ آئے ہیں
 میری آنکھوں سے کوئی بھول ہوئی ہو جیسے

چلتے چلتے ہوئے اکثر میں ٹھٹھک جاتا ہوں
 میں نے پھر سے وہی آواز سُنی ہو جیسے

(اسد قریشی)

No comments:

Post a Comment