Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts
Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts

قرآن سے میرا تعلق از احمد ندیم قاسمی


میرے نانا ابو(جن کو ہم سے بچھڑے 22 برس بیت گئے ہیں) کی کتابوں کے ذخیرے  سے 1969ء کا سیارہ ڈائجسٹ ملا۔ زیادہ خوشی کی بات یہ تھی وہ "قرآن نمبر" تھا۔ میرے لئے ایک بہت ہی نایاب اور قیمتی چیز تھی۔ اس ڈائجسٹ میں سے کچھ تحاریر اپنے بلاگ پہ بھی شئیر کروں گا۔ لہٰذا اس سلسلے کی پہلی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں۔

قرآن سے میرا تعلق:

جناب احمد ندیم قاسمی صاحب:-
میں نے تعلیم کا آغاز ہی قرآن مجید سے کیا۔ چار برس کی عمر تھی جب گاؤں کی مسجد میں درس لینا شروع کیا۔ ابتدائی پانچ پارے پڑھے تھے کہ یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ پرائمری تعلیم کے بعد جب مڈل میں داخلے کے لئے اپنے سر پرست چچا کے ہاں پہنچا تو انہوں نے خود ہی قرآن کی تعلیم دینا شروع کی۔ یہ تعلیم قرآن کو ناظرہ پڑھنے تک محدود نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ متن کے اردو ترجمے کے علاوہ مفصل تفسیر بھی شامل تھی۔ یہ تفسیرِ حقانی تھی۔ پھر پانچویں جماعت سے بی اے تک میں نے عربی کی تعلیم حاصل کی اور یوں قرآن مجید کی تفہیم میں خاصی مدد ملی۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد قرآن کے متعدد تراجم اور تفسیری نسخے زیرِ مطالعہ رہے لیکن اب میرا طریق یہ ہے کہ ترجمے کی صحت معلوم کرنی ہو تو مولانا اشرف علی تھانوی کا ترجمہ دیکھ لیتا ہوں اور کسی آیت کی تفسیر پیشِ نظر ہو تو مولانا ابو الکلام آزاد سے استفادہ کرتا ہوں۔ یوں تو قرآن مجید کے کسی ایک حصے کو کسی دوسرے حصے پہ ترجیح دینا گستاخی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے نظریات پر اس آیت کا بے حد گہرا اثر ہے:

وَ عِبادُ الَّرحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمشُوْنَ عَلَے الْاَرْضِ ھَوْنَا وَّ اِذَا خَاطَبَھُمُ الْجٰھِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا

قرآن مجید کے متعلق مجھے یہ واقعہ کبھی نہیں بھولے گا کہ ایک گاؤں میں ایک نوجوان کسی الزام میں پکڑا گیا۔ معاملے سے تھانے کو مطلع کرنے کی بجائے گاؤں کے ناموس کے نام پر معززین کی ایک پنچایت کے سامنے پیش کیا گیا تھا،-----پنچایت نے یہ اعلان کیا کہ اگر یہ نوجوان قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر کہہ دے کہ اس پر الزام غلط ہے تو یہ اپنا دعویٰ واپس لے لیا جائے گا۔ نوجوان نے بھی یہ دعوت قبول کر لی۔ قرآنِ مجید کا ایک نسخہ منگایا گیا اور جب نوجوان سے کہا گیا کہ وہ اُسے چھو کر قسم کھائے تو وہ ایک قدم آگے بڑھا بھی، مگر پھر جیسے سناٹے میں آ گیا۔ اس کے جسم پر رعشہ طاری ہو گیا۔ رنگ فق ہو گیا۔ ہونٹ کانپنے لگے اور آخر اس نے بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
٭٭٭٭٭

چراغِ مُردہ کو اِک بار اور اُکساؤں


غزل

چراغِ مردہ کو اک بار اور اکساؤں
دیا بجھا تو سحر کا فریب کیوں کھاؤں

خدا کے کام جو آئے، خدا بنائے گئے
مَیں سوچتا ہوں کہ انسان ہی کے کام آؤں

مَیں رنگ و نغمہ و رقصِ حیات ہوں یعنی
ضمیرِ دہر ہوں، شاہوں کے ہاتھ کیا آؤں

رچی ہوئی ہے رفاقت میرے رگ و پے میں
کچھ اس طرح کہ اکیلا چلوں تو گھبراؤں

ستارے ٹوٹ کے کلیوں کے روپ میں چٹکیں
ذرا زمیں کے پندار کو جو اکساؤں

کِسی کی زلف بھی منّت پذیرِ شانہ سہی
مگر مَیں گیسوئے گیتی تو پہلے سلجھاؤں

کئی برس سے مجھے مل رہا ہے درسِ خودی
یہی کہ تیرگیوں میں ہوَا سے ٹکراؤں

مَیں اب سے دُور فرشتوں کے گیت لکھتا رہا
یہ آرزو ہے کہ اب آدمی کو اپناؤں
(احمد ندیم قاسمی)

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے


غزل
ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے

رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے

میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے میرے

میری آنکھوں میں چراغاں سا ہے مستقبل کا
اور ماضی کا ہیولٰی ہے سَرہانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

راستہ دیکھتے رہنے کی بھی لذّت ہے عجیب
زندگی کے سبھی لمحات سہانے میرے

جو بھی چہرہ نظر آیا ترا چہرہ نکلا
تو بصارت ہے مری، یار پرانے میرے

سوچتا ہوں مری مٹّی کہاں اڑتی ہوگی
اِک صدی بعد جب آئیں گے زمانے میرے

صرف اِک حسرتِ اظہار کے پر تو ہیں ندیم
میری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے میرے
(احمد ندیم قاسمی)

وہ کوئی اور نہ تھا، چند خشک پتے تھے


غزل
وہ کوئی اور نہ تھا، چند خشک پتے تھے
شجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھے

ابھی ابھی تمہیں سوچا تو کچھ نہ یاد آیا
ابھی ابھی تو ہم ایک دوسرے سے بچھڑے تھے

تمہارے بعد چمن پر جب ایک نظر ڈالی
کلی کلی میں خزاں کے چراغ جلتے تھے

تمام عمر وفا کے گنہگار رہے
یہ اور بات کہ ہم آدمی تو اچھے تھے

شب خاموش کو تنہائی نے زباں دے دی
پہاڑ گونجتے تھے، دشت سنسناتے تھے

وہ ااک بار مرے جن کو تھا حیات سے پیار
جو زندگی سے گریزاں تھے روز مرتے تھے

نئے خیال اب آتے ہیں ڈھل کے زہن میں
ہمارے دل میں کبھی کھیت لہلہاتے تھے

یہ ارتقاءکا چلن کے ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے

ندیم جو بھی ملاقات تھی ادھوری تھی
کہ ایک چہرے کے پیچھے ہزار چہرے تھے
(احمد ندیم قاسمی)

حُسنِ اضداد سے بہلتا ہوں


غزل
حُسنِ اضداد سے بہلتا ہوں
برف کے منطقوں میں جلتا ہوں


میرےے پہرے میں تیرگی کا خلا
چاند ہوں، رات کو نکلتا ہوں


کر لیا میں نے وقت کو پابند
وقت کے ساتھ ساتھ چلتا ہوں


کب مرا ذوقِ جستجو بدلا
میں فقط راستہ بدلتا ہوں


کتنے محکم ہیں درد کے رشتے
شمع جلتی ہے، میں پگھلتا ہوں


قبر میں اپنا جسم بو کے ندیم
تا ابد پھولتا ہوں، پھلتا ہوں
(احمد ندیم قاسمی)
(دوام)
(اپریل1978ء)

درد کو جب دلِ شاعر میں زوال آتا ہے


غزل
درد کو جب دلِ شاعر میں زوال آتا ہے
جو بھی شعر آتا ہے، پتھر کی مثال آتا ہے


تیری آنکھوں میں کسی یاد کی لَو چمکی ہے
چاند نکلے تو سمندر پہ جمال آتا ہے


اک نظر تُو نے جو دیکھا تو صدی بیت گئی
مجھ کو بس اتنا حسابِ مہ و سال آتا ہے


بجلیاں جیسے چمکتے ہی کہیں کھو جائیں
اب کچھ اس طرح خیالِ خد و خیال آتا ہے


اپنے ہی حُسن سے ہیں لرزہ براندام طیور
جو بھی آتا ہے، اٹھائے ہوئے جال آتا ہے


آندھیاں میرے چراغوں کے تعاقب میں چلیں
یوں بھی بے وجہ عناصرکو جلال آتا ہے


جب بھی تصویرِ بہاراں میں بھروں رنگ ندیم
شاخ سے ٹوٹے پتوں کاخیال آتا ہے
(احمد ندیم قاسمی)
(دوام)
(اپریل 1978ء)

فریاد کروں مگر کہاں تک



غزل
فریاد کروں مگر کہاں تک
جب ساتھ نہ دے سکے زباں تک


آنسو تو میں پی رہا ہوں، لیکن
ممنوع کرو نہ ہچکیاں تک


گونجا وہ سکوت پَو پھٹے کا
مجھ کو نہ سنائی دی اذا ں تک


انسان، خدا کی جستجو میں
بھٹکا ہے زمیں سے آسماں تک


پھیلا دیا ایک دامِ ابہام
پھولوں نے قفس سے آشیاں تک


اِک اور محلک، پسِ فلک تھا
پہنچی ہے مری نظر جہاں تک


یہ ضبط نہیں ہے، خود کشی ہے
جب دل سے نہ اٹھ سکے دھواں تک


اندہ ہیں ہنر، ہنروروں کے
قبروں کے تو مٹ گئے نشاں تک
(احمد ندیم قاسمی)
(دوام)
(مئی1978ء)

رات کے ساتھ ہی رخصت ہوا مہتاب اپنا



غزل
رات کے ساتھ ہی رخصت ہوا مہتاب اپنا
اب کسے ڈھونڈتا ہے دیدئہ بے خواب اپنا


ہم وہ دریا ، کہ تجھے پار لگانے کے لئے
توڑ بیٹھے ہیں بھپرتا ہوا گرداب اپنا


تہ بہ تہ تیرگیوں سے جو نمٹنا چاہا
جل گیا آگ میں اپنی، دل شبِ تاب اپنا


ہائے یہ حُسنِ نظر، وائے یہ رعنائیِ فن
ہم تو بھوکے ہیں، مگر کھیت ہے شاداب اپنا


عمر بھر ہم نے بہایا اگر آنکھوں سے لہو
مطمئن ہیں کہ وطن تو ہوا سیراب اپنا


ایک دنیا نے یہاں پیاس بجھائی ندیم
اِس سخاوت میں سمندر ہوا پایاب اپنا
(احمد ندیم قاسمی)
(دوام)
(جون1978ء)



شئیر کیجیے

Ads 468x60px