Showing posts with label علامہ اقبال. Show all posts
Showing posts with label علامہ اقبال. Show all posts

ایک زمین۔۔۔دو شاعر (علامہ اقبالؒ، عبد الحئ عارفی)۔۔۔دو غزلیں


ایک زمین۔۔۔دو شاعر (علامہ اقبالؒ، عبد الحئ عارفی)۔۔۔دو غزلیں


علامہ اقبالؒ کی غزل:
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں



کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا
مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

کہہ گئیں راز محبت پردہ داریہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں

تھی کسی درماندہ رہرو کی صداۓ درد ناک
جس کو آواز رحیلِ کارواں سمجھا تھا میں



مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحئ عارفیؔ کی غزل:

عیشِ بزمِ دوست، عیشِ جاوداں سمجھا تھا میں
یہ بھی اک خوابِ سحر ہے یہ کہاں سمجھا تھا میں

مجھ کو اپنی بیخودی کا وہ بھی عالم یاد ہے
جب کسی کو اپنے دل میں مہماں سمجھا تھا میں




لذتِ درد نہاں بھی بارِ خاطر تھی مجھے
کچھ اسے بھی اک حجابِ درمیاں سمجھا تھا میں

یادِ عہدِ آرزو بھی رفتہ رفتہ مٹ گئی
اور اسی کو حاصلِ عمرِ رواں سمجھا تھا میں

کیا غلط تھا اے دلِ نا عاقبت اندیش اگر
ان سے امیدِ وفا کو رائیگاں سمجھا تھا میں

منزلِ ذوقِ طلب میں، جادۂ ہستی سے دور
تم وہیں آخر ملے مجھ کو جہاں سمجھا تھا میں

رفتہ رفتہ ہو گئی برہم زن صبر و قرار
یاد اُن کی باعث تسکیں جاں سمجھا تھا میں

اللہ اللہ تھی انہیں کے پائے نازک پر جبیں
بیخودی میں سجدہ گہ کو آستاں سمجھا تھا میں

دل کی باتیں ان سے کہہ دیں اس طرح دیوانہ وار
جیسے ان کو اپنے دل کا راز داں سمجھا تھا میں

عارفیؔ کیا مجھ پہ ہوتا رنج و راحت کا اثر
زندگی کو دھوپ چھاؤں کا سماں سمجھا تھا میں

مرزا غالب


مرزا غالب

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا

ہے پر مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا


تھا سراپا روح تُو ، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا

دید تیری آنکھ کو اُس حسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار

تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار

زندگی مضمر ہے تیری شوخئ تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر

شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گُل شیراز پر

آہ! تو اجڑی ہوئی دِلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں

ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظارہ آموزِ نِگاہِ نکتہ بیں

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزئ  پروانہ ہے

اے جہان آباد! اے گہوارۂ عِلم و ہُنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در

ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر

دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آب دار ایسا بھی ہے؟

(علاّمہ محمّد اقبالؒ)
(بانگِ درا)

نذرِ قرۃ العین طاہرہ اور نوای طاہرہ


کل احمد فراز کی آخری کتاب اے عشق جنوں پیشہ میں ایک نظم "قرۃ العین طاہرہ" پڑھنے کو ملی۔


نذرِ قرۃ العین طاہرہ

تجھ پہ اگر نظر پڑے تُو جو کبھی ہو رُو برو
دل کے معاملے کروں تجھ سے بیان دو بدو


ہے تیرے غم میں جانِ جاں آنکھوں سے خونِ دل رواں
دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جُو بہ جُو


قوسِ لب و خُمِ دَہن، پہ دو زلفِ پُر شکن
غنچہ بہ غنچہ گُل بہ گُل لالہ بہ لالہ بو بہ بو


دامِ خیالِ یار کے ایسے اسیر ہم ہوئے
طبع بہ طبع دل بہ دل مہر بہ مہر خو بہ خو

ہم نے لباس درد کا قالبِ جاں پہ سی لیا
رشتہ بہ رشتہ نخ بہ نخ تار بہ تار پو بہ پو


نقش کتابِ دل پہ تھا ثبت اُسی کا طاہرہؔ
صفحہ بہ صفحہ لا بہ لا پردہ بہ پردہ تو بہ تو


شیشۂ ریختہ میں دیکھ لعبتِ فارسی فرازؔ
خال بہ خال خد بہ خد نکتہ بہ نکتہ ہو بہ ہو


(احمد فراز) 
(اے عشق جنوں پیشہ، ص106)


 اس نظم کے متعلق جناب محترم سید زبیر صاحب نے نے کچھ معلومات مہیا کی ہیں جو واقعی پڑھنے کے قابل ہیں۔
اُن کی جازت سے یہاں شئیر کر رہا ہوں۔

قراۃ العین طاہرہ فارسی کی مشہور شاعرہ رہ چکی ہیں ، بہائی مذہب سے ان کا تعلق تھا اسی وجہ سے نہائت بے دردی سے انہیں قتل کیا گیا تھا ۔ خاوند ایران کے ایک مجتہد تھے ان سے طلاق لے لی تھی ۔صاحب دیوان تھیں ۔جاویدنامہ میں ایک غزل نوائی طاہرہ کے عنوان سے موجود ہے۔ احمد فراز کی اس غزل کو کسی حد تک اس کا ترجمہ کہا جاسکتا ہے ، علامہ اقبالؒ کی غزل بمعہ سلیس نثری ترجمہ حسب ذیل ہے:

نوای طاہرہ
گر بتو افتدم نظر چہرہ بہ چہرہ ، روبرو
شرح دہم غم ترا نکتہ بہ نکتہ ، موبمو
اگر تجھ پہ میری نظر کچھ اس طرح پڑےکہ تو میرے بالکل سامنے ہو اور تیرا چہرہ میرے چہرے کے سامنے ہوتو پھر میں تیرے غم عشق کی تفصیل ایک ایک گہری بات اور رمز سے بیان کروں

از پی دیدن رخت ہمچو صبا فتادہ ام
خانہ بخانہ در بدر ، کوچہ بکوچہ کوبکو
تیرا چہرہ دیکھنے کے لیےمیں صبح کی نرم ولطیف ہوا کی مانند چلی پھری ہوں اور میں گھر گھر ،در در ،کوچہ کوچہ اور گلی گلی پھری ہوں

میرود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام
دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم ، چشمہ بہ چشمہ جوبجو
تیرے فراق میں میرا خون دل میری آنکھوں سے رواں ہے اور وہ دریادریا،سمندر سمندر،چشمہ چشمہ اور ندی ندی بہہ رہا ہے

 مہر ترا دل حزین بافتہ بر قماش جان
رشتہ بہ رشتہ نخ بہ نخ ، تار بہ تار پو بہ پو
میرے غمزدہ دل نے تیری محبت کو جان کے قماش پر بن لیا ہے،دھاگہ دھاگہ ،باریک باریک، تار تار اور تانا بانا خوب ملا کر بن لیا

در دل خویش طاہرہ ، گشت و ندید جز ترا
صفحہ بہ صفحہ لا بہ لا پردہ بہ پردہ تو بتو
طاہرہ نے اپنے دل کے اندر نظر ڈالی مگر اسے دل کے صفحہ صفحہ،گوشہ گوشہ پردہ پردہ اور تہہ در تہہ تیرے سوا کوئی نظر نہ آیا

سوز و ساز عاشقان دردمند
شورہای تازہ در جانم فکند
اہل درد عاشقوں کے پر سوز ہنگاموں نے میری جاں میں نئے ہنگامے برہا کردیے

مشکلات کہنہ سر بیرون زدند
باز بر اندیشہ ام شبخون زدند
پرانی مشکلات نے اپنا سر اٹھا لیا اور ایک مرتبہ پھر میری فکر پر شب خون مارا

قلزم فکرم سراپا اضطراب
ساحلش از زور طوفانی خراب
میری فکر کا سمندر پوری طرح طوفان خیز بن گیا اور طوفان کی شدت سے اس کا ساحل خراب ہو گیا

گفت رومی "وقت را از کف مدہ
اے کہ می خواہی کشود ہر گرہ
رومی نے کہا جو اپنی ہر مشک کا خواہاں ہے ، تو وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دے

چند در افکار خود باشی اسیر
"این قیامت را برون ریز از ضمیر
تو کب تک اپنے افکار میں اسیر رہے گا۔ضمیر کا یہ بوجھ باہر گرا دے

اے شاعرِ مشرق


بہت دکھ اور کرب کے ساتھ اجمل نذیر کی یہ نظم آپ سب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کہ شاعرِ مشرق کے افکار کے ساتھ ہم نے کیا حال کیا۔ مگر ساتھ ہی یہ عزم بھی ہے کہ ہم آئندہ کسی بھی لکھنے والے کو اس طرح کی کوئی بھی تحریر لکھنے کا موقع نہیں دیں گے۔ٍ


اے شاعرِ مشرق

اے شاعرِ مشرق ترے افکار و تخیل
بہتے ہوئے دھارے تھے کسی موجِ رواں کے
تا دیر اثر خیزی کا ساماں بھی وہی تھے
جو تیر تھے کچھ فہم و فراست کی کماں کے

ڈھونڈے نہ کبھی حرف و صداقت کے معنی
اپنائے ہیں غیروں کے سے انداز نہ سمجھے
تقلید کے دھوکے میں مٹا ڈالی ہے تہذیب
ملت کے تقاضوں کے حسیں راز نہ سمجھے

ہم منزلِ مقصود پہ پہنچے نہ لگن سے
نعروں سے لیا کام ہنر تک نہیں پہنچے
تکمیلِ تمنا کے لئے شوق بڑا تھا
پر قوتِ بازو کے اثر تک نہیں پہنچے

مجرم ہیں گہر ہم نے گراں مایہ بہ حکمت
بے نام مسافت کے جھمیلوں میں گنوائے
برسوں سے روش اپنی غلامانہ رہی ہے
ایسے میں بھلا اپنی خودی کون جگائے

اے شاعرِ مشرق ترے احساس کی دولت
اے کاش کہ سینوں میں اتر جائے ہمارے
مایوسی کا عالم ہو کبھی ختم خدارا
امیدوں کی کشتی بھی لگے آ کے کنارے

ہو اپنا یقیں تیری تمنا کے مطابق
پھر کون بھلا غیر سے مانگے گا سہارے
یک جہتی سے منزل کی طرف ایسے رواں ہوں
گردوں سے خدا اپنے ملائک بھی اتارے
(اجمل نذیر)

اقبال ؒ! ترے دیس کا کیا حال سناﺅں


اقبال ؒ! ترے دیس کا کیا حال سناﺅں

دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاﺅں
ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاﺅں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاﺅں
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر اک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے کٹتی نہیں کوئی زنجیر
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

شاہیں کا جہاں آج کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی مُلّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

مر مر کی سلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے، لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندہ مومن کو میں اب لاﺅں کہاں سے
!وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارِ گراں سے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اگتے ہیں تہِ سایہ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے کبھی جی، جی کے مرے ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہے طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاﺅس پہ آ کر
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں

کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
(امیر الاسلام ہاشمی)

اے کاش کہ پاکستان ، اقبالؒ کا پاکستان بن جائے، خوشحالی کا 
ایک نیا دور شروع ہو جائے،اور پھر کوئی بھی ایسی نظمیں نہ لکھے۔

علامہ اقبال اور عشق رسولﷺ از ڈاکٹر طاہر القادری

علامہ اقبال اور عشق رسولﷺ از ڈاکٹر طاہر القادری

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اجالا کر دے
صوفیا کی تعلیم اور ان کا فکر عشق رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کس قدر لبریز ہے کسی بھی اہل علم پر مخفی نہیں۔ عشقِ مصطفےٰ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لبریز اسی فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں
ہر کہ عشقِ مصطفےٰ سامانِ اوست 
بحر و بردر گوشہ دامانِ اوست
 ایک اور مقام پر بارگاہ رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس طرح عرض پرداز ہیں کہ عشق و مستی کے ہزاروں قلزم ایک شعر میں محصور نظر آتے ہیں۔
ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی
کشتی و دریا و طوفانم توئی
اسی مضمون کو اردو میں علامہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
نہ صرف یہ کہ علامہ اقبال نے امّتِ محمدی صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذاتِ محمدی سے والہانہ پیغام دیا بلکہ اسی عشقِ رسالت اور نسبت محمدی صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملتِ اسلامیہ کی بقا و دوام کا راز بھی قرار دیا اور یہی وہ انقلاب انگیز قوت تھی جس سے سامراجی و طاغوتی طاقتیں خائف تھیں۔زوالِ اسلام کے اس دور میں جب اقبال ملتِ اسلامیہ کے عروقِ مردہ میں عشقِ مصطفےٰ صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کے ذریعے نئی روح پھونک کر اسے تباہی و ہلاکت سے بچانے کی فکر میںتھے۔ اسلام دشمن استعماری طاقتیں منظم ہو کر مسلمانوں کے دلوں میں اسی عشقِ رسالت کی شمع بجھا دینے کا سوچ رہی تھیں۔ انہیںمعلوم تھا کہ اگر مسلمانوں کے دل رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق و محبت سے خالی ہو گئے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ تو انہیں اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلا سکتی ہے اور نہ ہی اصلاح و تجدید کی ہزاروں تحریکیں انہیں اپنی منزل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔ یہ محض یا ایک خیال خام نہیں بلکہ ایک روشن حقیقت ہے۔ مغربی استعمار کی اسی سازش کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ فرماتے ہوئے کہا تھا۔
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں
کبھی روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
 اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
چناچہ اس مقصد کے تحت اہل مغرب نے یہ فکری میدان اسلامی تحقیق کے نام پر بعض متعصب یہودی اور عیسائی مستشرقین کے سپرد کر دیا۔ جنہوں نے اسلام کی تعلیمات اور بانی اسلام صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور سیرت پر اس انداز سے تحقیق کر کے لا تعداد کتب تصنیف کیں کہ اگر ایک خالی الذہن سادہ مسلمان نہایت نیک نیتی کے ساتھ بھی ان تصانیف کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا ذہن رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کے بارے میںطرح طرح کے شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کتب کے باقاعدہ مطالعہ سے جو ذہن تشکیل پاتا ہے اسے عشق رسالت کے تصور سے دور کا واسطہ باقی نہیں رہتا۔ ان مستشرقین نے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کا محاذ سنبھال لیا جس سے وہ اپنے مطلوبہ نتائج کافی حد تک حاصل کر رہے ہیں۔ مغرب زدہ سیکولر ذہن جو فکری تشتت اور نظریاتی تشکیک میں مبتلا ہو کر خود کو روشن خیال مسلمان تصور کر رہا تھا۔ مستشرقین کے زہریلے پراپیگنڈے کے باعث عشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دولت سے عاری ہو گیا اور مذہبی ذہن جو مستشرقین کے پراپیگنڈے کے اثر سے کسی نہ کسی طور بچ گیا تھا جدید لٹریچر کے نتیجے میں اسلام اور بانی اسلام صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وابستہ تو رہا لیکن عشقِ رسول ﷺکے عقیدے کو غیر اہم تصور کرنے لگا۔ اس طرح دونوں طبقات اس دولتِ لازوال سے تہی دامن ہو کر ایمانی حلاوت اور روحانی کیفیات سے محروم ہو گئے۔ جدید تصورات کی گرفت اس قدر مضبوط اور کامل نہ تھی کہ مسلمانوں کی اسلامیت ظاہر و باطن کے اعتبار سے محفوظ رہتی۔ یوں قومی و ملی زندگی تباہی و ہلاکت کا شکار ہو گئی۔ اس دور میں احیائے اسلام اور ملّت کی نشاةثانیہ کی جس قدر علمی و فکری تحریکیں منصّہ شہود پر آئی ہیں، ان سب کی تعلیمات سے جو تصور مسلمانوں کی نوجواں نسل کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے، یہی ہے کہ اسلام کو بحیثیت نظامِ حیات قبول کر لینا اور حضور ﷺ کی سیرت و تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی کمالِ ایمان اور محبتِ رسول ﷺہے۔ اس اتباع کے علاوہ جناب رسالت مآبﷺ کی ذاتِ ستودہ صفات سے خاص قسم کی قلبی اور جزباتی لگاو ¿ جسے والہانہ عشق و محبت سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی علامت و احوال سے اہلِ دل بخوبی واقف ہیں مقصودِ ایمان ہے۔اس نام نہاد روشن خیالی سے ہماری حیاتِ ملی پر جو مضر اثرات مرتب ہوئے محتاج بیان نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کے اصل تصور کو قرآن و حدیث اور سنت صحابہ کے آئینے میں اس طرح اجاگر کیا جائے کہ آج کی نوجواں نسل جو تلاشِ حقیقت میں سرگرداں ہے، اس آفاقی حقیقت سے باخبر ہو کر پھر سے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا وہ تعلق استوار کر لے کہ اس کی نظروں کو دانش فرنگ کے جلوے کبھی خیرہ نہ کر سکیں۔بقول اقبال۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
اور انہیں دین حق کی اس کامل تعبیر کی صیحح معرفت نصیب ہو جسے اقبال نے اس شعری قالب میں ڈھال دیا ہے۔
بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگربہ او نر سیدی تمام بو لہبی ست
(از قلم: ڈاکٹر محمد طاہر القادری)


قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں اقبال کی فکری ہم آہنگی


:قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں اقبال کی فکری ہم آہنگی



مسلمانان ہند جب تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے تھے، فکری انتشار کے باعث جب قوم ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی تھی، قائداعظم محمد علی جناح بکھری ہوئی قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ انتشار کے اس دور میں علامہ اقبال کے افکار عالیہ کی منزل کی نشاندہی کی جس کی بدولت جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان دو عظیم راہبروں کی نظریاتی مطابقت تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے۔ تحریک پاکستان کے پس منظر میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کو مدّمقابل حکمراں انگریز اور کانگریس کے اسلام دشمن گٹھ جوڑ سے نبردآزما ہونا تھا۔ ان نامساعد حالات میں مشیت ایزدی کا ظہور جہاں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی مدظلہہ العالی کی بشارت سے ہوا کہ نبی پاکﷺ نے صحابہ کرام کے دربار میں قائداعظم کو معانقہ کا شرف بخشا اور آپ کو ملت اسلامیہ کا مونس قرار دیا، وہیں اقبال جن کے رگ و پے میں اس انداز سے عشق رسولﷺ سرایت کرگیا تھا کہ روضہ اطہر پر حاضری کی تڑپ، آنکھوں سے سیلاب اشک جاری تھا۔ اقبال مسلمانوں کے سیاسی و اقتصادی مسائل کا حل نظام شریعت کے نفاذ میں سمجھتے تھے۔ اس پاکیزہ مقصد کے حصول کے لئے ایک علیحدہ وطن کی نشاندہی وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ الہ آباد 1930ء میں کرچکے تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کے دل سے قائل تھے۔
 ایک نجی محفل کے دوران علامہ اقبال کی قیام گاہ پر احباب جمع تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کی ذہانت، فراست اور تدبر کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ علامہ نے فرمایا محمد علی جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو ہندوستان کے کسی اور رہنما میں نظر نہیں آتی۔ احباب میں سے کسی نے دریافت کیا کہ وہ خوبی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ ان کی امانت، دیانت، صداقت ہے۔ انہیں کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔
 علامہ اقبال نے جو خطوط قائداعظم محمد علی جناح کو تحریر کئے ہیں، ان کے ترجمے مختلف صاحبان علم و فضل نے کئے ہیں۔ محمد جہانگیر عالم صاحب نے جس عرق ریزی کے ساتھ انہیں مرتب کیا ہے، تاریخ پاکستان کا بیش بہا سرمایہ ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال کے خطوط کے بارے میں تہنیت کے جن الفاظ کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے، لائق قدردانی ہیں۔ فرمایا یہ خطوط میرے نام اسلام کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی عارف ( یہ وہ دور تھا جب تک مسلم لیگ کے رہنماؤں نے قائداعظم کی اپیل پر سر کا خطاب واپس نہیں کیا تھا ) ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم نے اپنی وفات سے قبل مئی 1936ء تا نومبر 1937ءکے درمیان تحریر کئے ہیں۔ یہ دور جو جون 1936ءآل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے قیام اور اکتوبر 1937ءمیں لکھنو ءکے تاریخی اجلاس کے دوران تک محیط ہے۔ مسلم ہند کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ لکھنوءاجلاس اس اَمر کی نشاندہی کا باعث بنا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ اور با اختیار جماعت ہے اور عوامی سطح پر اس کی تنظیم ہونا چاہئے۔ ان دونوں مقاصد کے حصول میں، میں اپنے دوستوں میں جن میں ڈاکٹر سر محمد اقبال شامل ہیں کے انمول تعاون حب الوطنی اور بے غرض مساعی کی بدولت کامیاب ہو سکا ہوں۔ چنانچہ مسلم لیگ کو ہر صوبے میں 70% فیصد کامیابی
 حاصل ہوئی ہے۔ مسلم لیگ کو شاندار کامیابی تک پہنچانے میں ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اقبال کے وہ خطوط جو اس سلسلے میں انہوں نے مجھے لکھے زبردست تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، بالخصوص وہ خطوط جن میں مسلم ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات کا واضح اور غیر مبہم اظہار ہے۔ ان کے خیالات پورے طور پر میرے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور بالآخر میں ہندوستان کے دستوری مسائل کے مطالعہ اور تجزیئے کے بعد انہی نتائج پر پہنچا اور کچھ عرصے کے بعد یہی خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کی اس متحدہ خواہش کی صورت میں جلوہ گر ہوئے جس کا اظہار آل انڈیا مسلم لیگ کی 23 مارچ 1940ءکی منظور کردہ قرارداد لاہور ہے، جو عام طور پر قرارداد پاکستان کے نام سے موسوم ہے۔قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ایک دن قائداعظم نے اپنے سیکریٹری سید مطلوب الحسن (1984-1915) سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اقبال ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ اگر زندہ ہوتے تو یہ جان کر بہت خوش ہوتے کہ ہم نے بالکل ایسے ہی کیا جس کی وہ ہم سے خواہش کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے بڑے ہی افسوس کے ساتھ مجھے موجودہ نازک ترین دور میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنے عظیم رہنماؤں کے کردار اور اوصاف حمیدہ اور تحریک پاکستان کے محرکات کو یکسر فراموش کر کے ہزیمت کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ نتیجہ بجز رسوائی اور ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائداعظم اور دیگر زعماء پاکستان کے کارناموں کو اجاگر کیا جائے۔ مسلمہ اصول ہے جس چیز کا چرچا رہتا ہے وہ زندہ رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بانیان پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔
(اپنا مقام پیدا کر)

علامہ اقبال کا تصور پاکستان اور سیکولر



علامہ اقبال کا تصور پاکستان اور سیکولر

اس عنوان پر صحیح الفکر احباب شاید چیں بچیں ہوں کہ کہاں مصورِ پاکستان اور ان کا عہد آفریں تصورِ پاکستان اور کہاں سیکولرزم جیسا ایک ناکام طرزِفکر۔ تو بات بالکل بجا ہی، اور یہی درحقیقت اس مضمون کا محرک بھی ہے۔ علامہ اقبا ل کا تصورِ پاکستان اگر چند لفظوں میں بیان کرنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسلامیانِ برصغیر کی ایک ایسی جداگانہ ریاست کا قیام چاہتے تھے جو ریاست ِ مدینہ کا نقشِ ثانی ہو اور جس کی بنیادیں اسلامی فکر کی ہمہ گیریت اور جغرافیائی ماورائیت پر استوار ہوں۔ ایک اہم تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ علامہ مرحوم اس جادئہ عزیمت کے تنہا راہ رو یا راہبر نہ تھے بلکہ آپ سے پہلے کئی جلیل القدر ہستیوں نے اس فکر کی آبیاری کی تھی۔ ان میں سرفہرست احیائے اسلامی کے علم بردار حضرت مجدد الف ِثانی رحمةاللہ ہیں، اور پھر تحریک مجاہدین کے عظیم قائدین اور پھر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہم اللہ۔ سیکولرزم کا نظریہ تو خود انیسویں صدی کی پیداوار ہے جسے جواں مرگ اشتراکیت اور سوشلزم کے زوال کے بعد وطنِ عزیز کا وہ دین بیزار گروہ جس کا قبلہ کبھی ماسکو تھا توآج وہ واشنگٹن کی سرمایہ دارانہ سامراجی فکر کا پرچار ہے، اور جسے معروف اہل قلم اور شاعر اور اسلام آباد کے موقرادبی سہ ماہی الاقرباءکے صدر مجلس ادارت سید منصورعاقل کے بقول ”لادین فکری مافیا“ کہا جاسکتا ہی، وہی اب نظریہ پاکستان کی سیکولرزم کے حوالے سے تعبیر و توضیح پر کمربستہ نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ سال وفاقی دارالحکومت کی دو معروف اور معتبر جامعات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصورِ پاکستان کے فرزندِ ارجمند محترم ریٹائرڈ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کے خصوصی خطاب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بظاہر ان تقاریب کا موضوع نظریہ پاکستان کی تشریح وتوضیح تھا مگر مہمان مقرر نے جو گفتگو وہاں کی وہ حقیقتاً نظریہ پاکستان کی نفی تھی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے افکار عالیہ پرمشتمل ایک کتابچہ جو حاضرین مجلس میں تقسیم کیاگیا اس کا عنوان تھا: ” اقبال کی نگاہ میں پاکستان کی ’اسلامی ریاست‘ مثالی ’سیکولر‘ ریاست کیسی؟“ دین اور لادینیت کی اس سے زیادہ پ ±رکشش پیوندکاری اورکیا ہوسکتی ہے؟ بقول علامہ رحمہ اللہ، ہمارا المیہ ہی من حیث الفرد و القوم بینائے غلط بین اور دانشمندانِ بے دین رہے ہیں۔ جب سے آج تک ہمارا سانحہ یہی ہے کہ ہم علم اور عمل دونوں میدانوں میں ادھورے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بسا اوقات ہمارے نامی گرامی دانشور اور اہلِ قلم حتیٰ کہ سکہ بند علماءبھی وہ کچھ کہہ دیتے ہیں اور کردیتے ہیں جسے وہ بزعمِ خود مبنی برحق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہاں تمام تر اُن کی بے سوادی اورکم نگاہی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ پھر ہماری مادیت زدہ دنیا میں شہرت و ناموری اور ذاتی یا گروہی منفعت کی قربان گاہ پر تو بڑے بڑے اہلِ تقویٰ ٰ قربان ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں اُس مقالہ کے مندرجات پر تبصرہ ہرگز مطلوب نہیں کہ وہ قابلِ تبصرہ ہے بھی نہیں۔ فکرِ اقبال میں تحریف ایک پرانی روایت ہی، جسے پہلے بھی نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ ذیل میں جس حقیقت کی نشان دہی مطلوب ہے وہ ہے سیکولرزم اور نظریہ پاکستان کی جداگانہ حقیقت۔ اقبال نے ابلیس کی چالوں کو اپنے زندہ جاوید اشعار میں بڑی خوبصورتی سے بے نقاب کیا ہے۔ انہی چالوں کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو آج ہر طرف ہمارے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ ابلیس لعین نے لاہور شہر کی بڑی بڑی کوٹھیوں کو چھوڑ کر اپنی جولاں گاہ کے لیے ایک مخصوص حویلی کا انتخاب کیا۔ آخر اس کی کوئی وجہ تو تھی۔ پتنگ بازی، رامش و رنگ اور ناو نوش کی محفلیں کسی بھی کوٹھے پر سجائی جاسکتی تھیں، لیکن اقبال سے نسبت کے بھی تو کچھ تقاضے ہیں، جی ہاں وہی اقبال جس نے اس کے مکر و فریب کو بے نقاب کیا تھا۔ شب خوں مارنا آخر کسے کہتے ہیں۔ شیطان کی ذرّیات کا یہ کارنامہ بھی کیا خوب ہے کہ جس جعلی تصوف کے تار و پود اقبال نے بکھیرکر رکھ دیے تھے نبیرہ اقبال ایک بڑے چودھری کے تعاون اور آمرِ وقت کی زیرِ سرپرستی اسی کا تاج زیب ِ سر کیے بزم آرائے محفل دکھائی دیں۔ جہاں تک فرزندِ شاعرِ اسلام حضرت جسٹس جاوید اقبال کا تعلق ہے تو ابلیس کا دستِ شفقت ان پر نہ ہوگا تو بھلا کس پر ہوگا۔ جاوید اقبال صاحب ایک بہت بڑے باپ کے ایک بڑے بیٹے بھی ہیں۔ جس علم کی بات آغازِ کلام میں کی گئی اس کے حامل بھی، ”زندہ رود “جیسی تصنیف کے مصنف بھی۔ ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ موقع اور حالات کو اسلام اور پاکستان کے لیے سازگار دیکھتے ہیں تو وہ باتیں کرجاتے ہیں کہ جنہیں سن کر خوشی ہوتی ہے کہ جس شخصیت سے جن خیالات کے اظہار کی توقع تھی وہ کسی حد تک تو پوری ہوئی۔ مگر پھر دوسرے مواقع بھی آتے ہیں جہاں انہیں اپنے علم و دانش کا سکہ جمانا ہوتا ہے تو رائج الوقت سکہ اگر سیکولرزم کا ہے خواہ وہ کیسا ہی کھوٹا اور فی الحقیقت بے وقعت ہی کیوں نہ ہو، ان مواقع پر وہ وہی کچھ کرتے ہیں جیسا کہ ”روم جاﺅ تو رومیوں کی طرح کرو“کا اصول ہے۔ علامہ اقبال نے بالِ جبریل میں جو نظم ”جاوید کے نام“ معنون کی ہے اسے پڑھیے تو لگتا ہے مفکرِ اسلام کو اپنے فرزند دلبند کے حوالے سے کچھ یقینی خدشات بھی تھے جن پر انہوں نے بیٹے کو بروقت متنبہ کردیا تھا۔اگر ایسا نہیں تو اُس دانائے راز نے یہ شعر بھلا کیوں کہاتھا
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی 
خراب کر گئی شاہیں بچوں کو صحبتِ زاغ
 عیسائی مغرب سیکولرزم کی یہ تعریف کرتا ہے
"The view or belief that soceity's values and standards should not be influenced by religion or church."
(Chambers 21st Century Dictionary, P.1269)

ان مغربی نظریات میں سے بیشتر اپنی طبعی موت مر چکے ہیں جبکہ چند ایک موت و زیست کی کشمکش میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں۔ سیکولرزم کا شمار بھی انہی میں ہے۔ درج بالا تعریف کی رو سے پوری دنیا میں صرف دو معاشر ے ہیں جنہیں بڑی حد تک سیکولر یا بے دین کہا جا سکتا ہے۔
 ایک ہے ہندو معاشرہ اور دوسرا عیسائی مغرب۔ اپنی نہاد میں یہ دونوں ہی معاشرے اُس مذہبی فکر سمیت جس کے وہ حامل ہیں ہمیشہ بے دین ہی رہے ہیں۔ نہ ہندو مت معروف معنوں میں کوئی مذہب ہے اور نہ عیسائیت۔ بنیادی طور پر یہ دونوں دو ثقافتی مظاہر ہیں جنہوں نے اپنی شناخت اور بقاءکے لیے کچھ رسوم و رواج اور مندر اور چرچ جیسے ادارے کھڑے کرلیے ہیں جہاں چند خاص موقعوں پر مذہب کے نام پر کچھ کارروائی عمل میں آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہر فرد اپنی اپنی طرزِ فکر و عمل میں آزاد ہوتا ہے تاکہ: آتما بھی خوش رہی، پرماتما بھی شاد ہو رقص گاہیں جگمگائیں، چرچ بھی آباد ہو اسلام میں تو دین و دنیا کی ثَنَویت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، کیوںکہ اسلام تو ایک مکمل نظامِ حیات ہے
آپ کہہ دیں کہ میری نماز، میرے مناسک ِ عبودیت، میرا جینا، میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہی، جس کا کوئی ساجھی نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم ہے اور میں اپنے اللہ ربّ العٰلمین کے حضور سرِتسلیم خَم کرنے میں پہل کرنے والا ہوں۔
(الانعام162-163)
 ایک دوسری حقیقت بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چونکہ اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا ہے اسی لیے اس کی فطرت میں مذہب سے وابستگی کا جذبہ بھی ودیعت کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ َادَھرمی یا لادینیت کے عروج کے ادوار میں بھی ہندو اور عیسائی معاشرے کسی نہ کسی طور مذہب کی طرف لوٹتے نظر آتے ہیں۔ ہندو مہاسبھا، جن سنگھ، بجرنگ دل، شیوسینا،راشٹریہ سویم سیوک سنگھ وغیرہ نام سے کٹر ہندو سیاسی، مذہبی اور نیم عسکری تنظیمات قیام پاکستان کے بعدہی وجود میں آگئی تھیں اور آج آریہ ورت میں ”ہندوتوا“ کا چرچا ہے۔ اسی طرح مغرب مذہبی احیا ءکے مختلف مراحل سے گزرتا رہا ہے۔ بش دور کے امریکہ میں نیوکونز (neo-cons)اور آج برطانیہ میں مذہب کی جانب مائل Conservatives کی حکومت اس کی ایک مثال ہے۔ نائن الیون کے بعد کا دور اسلامیانِ عالم کے لیے ابتلاءکا دور ہے مگر قدرت کی کرشمہ سازی دیکھئے کہ انہی اسلام اور مسلم دشمن معاشروں میں طالبانِ حق کا بھی ایک گروہ ہے جو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہو رہا ہے۔ ماضی کاکالا پانی جزائر انڈمان، اور نکوبار ہو کہ دورِحاضر کا خلیجِ گوانتانامو کا عقوبت خانہ، اسلام کی طرف واپسی کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ پاکستان کی اساس اسلام ہے اور مصورِ پاکستان اوربانی پاکستان کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ نے دینی بنیادوں پر استوار جس دو قومی نظریے کی بناءپر اسلامیانِ برصغیر کو یہ مملکت خداداد عطا کی ہے وہاں سیکولرزم کا جادو بھلا کیا چل سکتا ہے! کمال تو یہ ہے کہ مصطفی کمال کا ترکی حقیقی معنوں میں کبھی سیکولر نہیں ہوسکا۔ وہ سرزمین جہاں نماز و اذان کی قرآنی زبان میں ادائیگی پر پابندی تھی، وہیں حق تعالیٰ نے بدیع الزمان سعید نورسی مرحوم و مغفور (مارچ 1878 - 23 مارچ 1960ء) جیسی سعید روحوں کو بیدار کردیا اور انہوں نے وہ کام کردکھایا کہ عربی اب وہاں پاکستان کی بہ نسبت کہیں زیادہ پڑھی، بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو ایام حج میں منیٰ و عرفات میں نوجوان ترک فرزندان و دخترانِ اسلام سے گفتگو کرکے دیکھ لیں۔ دُور نہیں جاسکتے تو یہیں اسلام آباد کے معروف تعلیمی نیٹ ورک ”پاک ترک اسکول“کے ترک اساتذہ اور اربابِ حل و عقد سے عربی میں ہمکلام ہونے کی سعادت حاصل کرلیں اور پھر دیکھیے تماشہ مصطفی کمال کی لادینیت کا۔ موجودہ ترکی کے سیاسی محاذ کے مجاہد جناب رجب طیب اردغان سے ایک جانب اسرائیل
 لرزہ براندام ہے تو دوسری جانب روح اتاترک انگشت بدنداں۔ اور یہ جو اپنا بنگلہ دیش ہے اس کے بانیوں نے بھی اسے سیکولر ریاست ہی بنایا تھا مگر کیا کیا جائے غیور مسلمانانِ مشرقی بنگال کا کہ سیکولرزم وہاں آج بھی منہ چھپائے پھرتا ہے، قبولیت ِعام تو بیچارے کو کیا خاک ملتی۔ بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت بھارت نواز بھی ہو تو بنگلہ دیشی عوام مغربی بنگال کی تہذیبی اور سیاسی بالادستی کبھی قبول نہیں کرسکتے کہ اگر انہوں نے آخر کار یہی کرنا تھا تو پھر 1905ءمیں تقسیمِ بنگال اور اس سے اگلے برس 1906ءمیں پاکستان مسلم لیگ جیسی جماعت کی داغ بیل وہاں کبھی نہیں ڈالی گئی ہوتی۔ اسی روشن حقیقت کا اظہار 2002ءمیں اُس وقت بھی ہوا تھا جب قاہرہ میں اپنے ہم منصب بنگلہ دیشی سفارت کار سے میں نے کہا تھا اور اس کی آنکھیں نمناک ہوگئی تھیں کہ پاکستان کو آپ خود سے جتنا قریب پاتے ہیں پاکستان بھی بنگلہ دیش کو اپنا دست و بازو ہی سمجھتا ہے۔ صد افسوس کہ محترم جاوید اقبال اور ان جیسے چند دوسرے بزرگ مُردہ سیکولرزم کے تابوت کو اپنا نحیف کندھا پیش کررہے ہیں، حالاںکہ اس تعفن زدہ لاش کو تو اب تک گنگا برد کردینا چاہیے تھا کہ پہنچے وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر ہے۔ آخرِ کلام میں ایک زندہ وتابندہ تاریخی حقیقت کی نشاندہی ضروری ہے۔ قائداعظم علیہ الرحمہ نے پاکستان کے حوالے سے ایک بڑی خوبصورت بات کہی تھی جو مبنی برحق ہے کہ پاکستان اسی وقت وجود میں آگیا تھا جب پہلے مسلمان نے اس سرزمین پر اپنے قدم رکھے تھے۔ یہ تاریخ ساز لمحہ 10رمضان المبارک 712 میلادی میں پیش آیا تھا جب محمد بن قاسم کے ہاتھوں سندھ فتح ہوا اور یہاں پہلی مسلم ریاست ابھری جس نے اس خطہ زمین کو”باب الاسلام“بنادیا۔ اس واقعہ کے 1235برس بعد 1947ءمیں بالآخر مملکت ِخداداد پاکستان وجود میں آئی۔ ہجری مہینہ اُس وقت بھی رمضان المبارک ہی کا تھا اور ایسی برکتوں والی رات جسے ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے، یعنی 27 ویں شبِ ماہ صیام۔کیا یہ محض اتفاقی واقعات ہیں؟ نہیں، بخدا ہرگز نہیں کہ تکوینی امور اتفاقی نہیں بلکہ حتمی اور طے شدہ (pre-detestined) ہوتے ہیں۔ کوئی صاحب ِفہم و ادراک بھلا یہ کیسے تسلیم کرسکتا ہے کہ قدرت نے جس ریاست کی اس طرح آبیاری کی ہو وہ کبھی لادین، دین بیزار اور سیکولر بھی ہوسکتی ہے۔ علامہ مرحوم و مغفور کے کلامِ نظم و نثر سے سیکولر پاکستان کے لیے شواہد مہیا کرنا ایسا ہی ہے جیسے قرآن عظیم الشان سے مارکسزم اور سوشلزم کے حق میں دور کی کوڑی لانا- علامہ کا
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
ہو، یا کلیاتِ فارسی و اردو، یا پھر تاریخی خطبہ الہ آباد، ان کی فکر تمام تر قرآن و حدیث کے نور سے ہی منور ہے۔ اس ضمن میں صرف درجِ ذیل اقتباس ہی کافی ہوگا جو علامہ کے تاریخی خطبہ الہ آباد (29 دسمبر 1930ء) سے ماخوذ ہے
اسلام فرد کی زندگی کو دین اور دنیا کے الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹتا۔ وہ مادے اور روح کی کسی ناقابلِ اتحاد ثنویت کا قائل نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے خدا اور کائنات، روح اور مادہ، کلیسا اور ریاست ایک ہی کُل کے جزو ہیں، اور ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ اسلام یہ نہیں سکھلاتا کہ انسان آلائشوں سے لبریز اور ناپاک اس دنیا کا کوئی باشندہ ہی، جسے وہ کسی دوسری دنیا کی خاطر ترک کردے جہاں روح رہتی ہی، اسلام کے نزدیک مادّہ روح کا وہ روپ ہے جو قیدِ مکان و زمان میں گھرا ہوا ہے۔ یورپ کی عیسائی ریاستوں کی زندگی سے مذہب عیسوی تقریباً خارج ہوگیا ہے۔ میری خواہش ہے (اور مجھے یقین ہے کہ) شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک منظم اسلامی ریاست
 قائم کرنا پڑے گی۔
 میں اپنی معروضات اب فرموداتِ قائداعظم علیہ الرحمہ کے دو مختصر اقتباسات پر ختم کروںگا جو اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ جس پاکستان کے لیے بانی پاکستان نے ایک طویل اور جاں گسل تحریک کی قیادت کی اس کے خدوخال خود ان کے نزدیک کیا تھی
اسلام محض رسوم، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ نہیں ہے۔ اسلام ہر مسلمان کے لیے ضابطہ حیات بھی ہے جس کے مطابق وہ اپنی روزمرہ زندگی، اپنے افعال و اعمال، حتیٰ کہ سیاست اور معاشیات اور دوسرے شعبوں میں بھی عمل پیرا ہوتا ہے۔
(کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب، 25 جنوری 1948ء)

(بشکریہ: شکیل احمد چوہان)

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے


(غزل(منسوخ

تم آزماﺅ ”ہاں“ کو زباں سے نکال کے
یہ صدقے ہو گی میری سوالِ وصال کے

جادو عجب نگاہِ خریدارِ دل میں تھا
بِکتا ہے ساتھ، بیچنے والا بھی مال کے

کم بخت کی اک نہیں، ہزاروں ہیں صورتیں
ہوتے ہیں سو جواب، سوالِ وصال کے

ہم موت مانگتے ہیں، وہ گھبرائے جاتے ہیں
سمجھے اُنہوں نے اور ہی معنی وصال، کے

اے ضبط! ہوشیار، مرا حرفِ مدعا
قابو میں آ نہ جائے سوالِ وصال کے

مارے ہیں آسماں نے مجھے تاک تاک کے
کیا بے خطا ہیں تیر کمانِ ہلال کے

اُن کی گلی میں اور کچھ اندھیر ہو نہ جائے
اے ضعف دیکھ مجھ کو گرانا سنبھال کے

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

“میں نے کہا ”بے دہنی اور یہ گالیاں؟
کہنے لگے بول ذرا منہ سنبھال کے

“کہتے ہیں ہنس کے”جائیے ، ہم سے نہ بولیے
قربان جاﺅں طرز بیانِ ملال کے

بگڑے حیا نہ شوخیِ رفتار سے کہیں
چلتے نہیں وہ اپنا دوپٹے سنبھال کے


تصویر میں نے مانگی تو ہنس کر دیا جواب
عاشق ہوئے ہو تم تو کسی بے مثال کے

چلتے ہوئے کسی کا جو آنچل سرک گیا
“بولی حیا ”حضور! دوپٹہ سنبھال کے

حسرت نہیں، کسی کی تمنا نہیں ہوں میں
مجھ کو نکالیے گا ذرا دیکھ بھال کے

کہتا ہے خضر دشتِ جنوں میں مجھے کہ ”چل
“آتا ہوں میں بھی پاﺅں سے کانٹے نکال کے

اقبال، لکھنو سے نہ دِلّی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے
(دسمبر 1895ءتا1896ء)

منشی محمد دین فوق نے کشمیری میگزین لاہور بابت اپریل1909ءمیں اس غزل کے بارے میں لکھا ہے
چند سال ہوئے لاہور میں ایک بزمِ مشاعرہ نہایت کامیابی اور کمال سے منعقد ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔ایک مشاعرے میں ہمارے نوجوان اقبال نے بھی،جب کہ بیس بائیس برس کا سِن تھا، 
طُرح پر ایک غزل پڑھی اور جب اس شعر پر پہنچے

 موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو مرزا ارشد گورکانی مرحوم بے اختیار واہ واہ کہہ اٹھے اور بولے”میاں اقبال، اس عمر میں اور یہ شعر“ یہ پہلا موقع تھا کہ لاہور کے باذوق لوگوں کو اس نوجوان اور ہونہار 
شاعر سے شناسائی ہوئی۔

شئیر کیجیے

Ads 468x60px