Showing posts with label محفل کے شعراء. Show all posts
Showing posts with label محفل کے شعراء. Show all posts

مہرو انجم کو نشانِ لامکاں سمجھا تھا میں از اسد قریشی


علامہ محمد اقبالؒ کی زمین میں اسد قریشی صاحب کی غزل:
علامہ محمد اقبالؒ کی مشہورِ زمانہ غزل " اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں" کی زمین میں اسد قریشی صاحب کی خوبصورت غزل

مہرو انجم کو نشانِ لامکاں سمجھا تھا میں
”اس زمین وآسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں“



کتنے عالم ہیں نہاں جن کو کہاں سمجھا تھا میں
اب تک اس سارے جہاں کو کہکشاں سمجھا تھا میں

کس طرح سے میں سمجھتا زندگی کے پیچ وخَم
درحقیقت خوُد کو بھی اب تک کہاں سمجھا تھا میں

دوستوں سے بے خبر تھا دشمنوں کی کھُوج میں
قتل میں شامل تھے جن کو رازداں سمجھا تھا میں

بے اماں پھرتا رہا شام و سحر جس شہر میں
خونِ دل ہوتا رہا جائےِ اماں سمجھا تھا میں

بھُولنا تُجھ کو مری جاں ایسا مشکل بھی نہ تھا
ایک ہچکی تھی جسے کوہِ گَراں سمجھا تھا میں

عشق کلفت ہے نہ دریائے فسوں ہے یوں ہے۔۔۔اسد قریشی


احمد فراز صاحب کی اس مشہورِ زمانہ غزل (اُس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے) کی زمین میں کہی گئی جناب اسد قریشی صاحب کی یہ غزل، جو بیحد خوبصورت ہے، اسد صاحب کی اجازت سے آپ سب کے لئے بلاگ پہ پیش کر رہا ہوں۔

غزل

عشق کلفت ہے نہ دریائے فسوں ہے یوں ہے
ہجر وحشت نہ سکوں ہے، نہ جنوں ہے یوں ہے

آنکھ میں آکے لَہو اب تو ٹھہر جاتا ہے
ایک قطرہ ہے دَروں ہے نہ بَروں ہے یوں ہے

گر ضروری ہے محبت میں تڑپنا دل کا
کھینچنا آہ کا بھی کارِسکوں ہے یوں ہے

لفظ جی اُٹھتے ہیں قرطاس پہ آتے آتے
ہاتھ میرے بھی کوئی کُن فیَکوں ہے یوں ہے

خال و خَد حُسن کے تُجھ سے نہ بیاں ہونے کے
صرف لفاظی ہے کہتا ہے کہ یوں ہے یوں ہے

ہم اسد دل میں بسا رکھتے ہیں دنیا ساری
ورنہ کہنے کو یہ بس قطرہِ خُوں ہے یوں ہے

(اسد قریشی)

شئیر کیجیے

Ads 468x60px