Showing posts with label میری تحاریر. Show all posts
Showing posts with label میری تحاریر. Show all posts

بھینس کے آگے بین بجانا



بھینس کے آگے بین بجانا

بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجاﺅ تو وہ زیادہ دودھ دیتی ہے۔ ہائے افسوس کہ جاسوسی کے شوق نے یہ کام بھی کروا ڈالا۔ ہمارے بہت ہی شریف سے ہمسائے جنہوں نے بھینسوں کا پورا خاندان پالا ہوا تھا ، ایک دن کسی کام سے اپنے کسی عزیز کے ہاں تشریف لے گئے، مگر غلطی سے بھینسوں کے باڑے کا دروازہ کھلا چھوڑ گئے۔ بس پھر کیا تھا نہ تپتی دھوپ کا احساس کیانہ چلچلاتی گرمی کا خیال۔ ساتھ والے کی سو سال پرانی دکا ن سے ایک بین ادھار لی اور چل پڑے شوق کی تکمیل کے لئے۔ سب سے چھپتے چھپاتے جو نہی باڑے میں داخل ہوئے ایک بھینس بچاﺅ بچاﺅ چلانے لگی جیسے ہم کوئی چور اچکے ہوں۔ ہم نے فوراََ ایک خاموش کونے میں کھڑی ایک خاموش بھینس کا انتخاب کیا اور بین بجانا شرو ع ہو گئے۔مگر وہاں تو دودھ کا نام و نشان بھی نہ تھا البتہ بھینس صاحبہ کی چیخ و پکار ضرور فضا میں بے سرا رس گھول رہی تھی اور پورا محلہ ابا حضور کی قیادت میں اس سُر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہماری طرف جاہ و جلال کے ساتھ آرہا تھا، یہ تو ہمیں بعد میں پتہ لگا کہ ان سب کی خبر بھینس کی چیخوں کے علاوہ ہمارے سب سے جگری دوست، ابا حضور کے دوست کے بیٹے نے ہی ابا کو دی تھی، دراصل موصوف نے ہم سے پرانا بدلہ لیا تھا کہ ہم نے ان کی سائیکل میں سے ایک دن میں تین دفعہ ہوا نکال دی تھی۔۔ہم نے بھاگنے کی بھی کوشش کی مگر بے سود۔ آگے کی کہانی کچھ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
خیر یہ تو تھی بچپن کی بات۔ جب تھوڑا سا ہوش سنبھالا اور فکرِ فردا نے گھیراتو اپنے ساتھ ساتھ اپنے ہم وطنوں کی فکر بھی دل و دماغ پہ چھائی، بڑے غور و فکر کے بعد سیاست کے پیشے پہ ہماری نظرِ کر م آ کے ٹھہری۔ مگر یہاں تو عوام بھینس کا کردار نبھا رہی تھی اور سیاست دان بین بجانے میں مصروف تھے بلکہ ہے۔حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ64سال گزرنے کے باوجود بھی یہ بین بجانے کی رسم جاری و ساری ہے۔ کبھی کوئی فوجی بندوقوں سے بین بجاتا ہے تو کبھی کوئی بیان بازی سے۔ فوجی بین کو آمریت اور بیان بازی والی کو جمہوریت کا خوبصورت نام دیا گیا ہے جبکہ ساختی لحاظ سے دونوں میں صرف رنگ کا فرق ہے مال ایک جیسا ہے یعنی ڈھائی نمبر۔اب اس سے پہلے کہ کوئی آکہ اس پہ بھی بین بجانی شروع ہو جائے ہم بھی ہوتے ہیں ندارد اور آپ بھی اپنا بندوبست کر لیجیے۔
(محمد بلال اعظم)


نئے سال کی آمد ہے


سب حمد و ثنا تیرے لیے ہے مرے مولا
تو وہ ہے کہ جس نے مجھے توفیقِ ہنر دی
قرطاس پہ لفظوں کے دیے تُو نے جلائے
پھر تُو نے مجھے روشنئ فکر و نظر دی
میں ذرۂ کمتر تھا مگر تیرے کرم نے
اک وسعتِ صحرا مجھے تا حدِّ نظر دی

اپنی تمام تر رنگینیاں، خوشیاں اور پریشانیاں، اداسیاں اپنے دامن میں سمیٹے یہ سال بھی آج ہم سے رخصت ہو جائے گا۔
اپنی زندگی کے اٹھارہ سال گزارنے کے بعد جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک طرف اداسی کا خار زار ہے جبکہ دوسری طرف امید و یقین کا لہلہاتا ہوا سبزہ زار ہے۔ جہاں یہ سال بہت سے دکھ دے کر گیا وہیں بہت سی خوشیاں بھی اپنے دامن میں سمیٹ کر لایا۔
گو کہ اس سال بہت سے گہرے صدمات سے بھی گزرنا پڑا۔ جن میں پہلے بڑی ممانی اور پھر بڑے ماموں کی اچانک وفات ہے (اللہ پاک اُن کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اُن پہ اپنی رحمتیں نچھاور کرے ۔ آمین!) مگر پھر بھی شکر ہے اُس پاک رب کا کہ جس نے ہمیں صبرِ جمیل کی توفیق دی۔ لیکن پھر بھی اُن کی یاد تو مٹائے نہیں مٹتی دل سے۔ ان لمحات میں مجھے واصف علی واصف صاحب بہت یاد آئے، جو اکثر کہا کرتے تھے کہ "خوش نصیب وہ ہے، جو اپنے نصیب پہ خوش ہے"۔
لیکن اس سال میں نے بہت کچھ حاصل بھی کیا۔ جن میں کئی تعلیمی کامیابیاں بھی شامل ہے۔ سر علامہ اقبالؒ فورم کی بنیاد بھی اسی سال رکھی گئی۔ جو آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بنتا جا رہا ہے اور پھل دے رہا ہے۔ سر علامہ اقبالؒ فورم پیج، سر علامہاقبالؒ فورم گروپ، علامہ اقبالؒ ڈاٹ پی کے، مجھے ہے حکمِ اذان میگزین کہ جس سے بے شمار لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مَیں جناب عاطف سعید بھائی، جناب شکیل احمدچوہان بھائی، جناب افتخار کھوکر صاحب، جناب دانش ضیا اقبالی بھائی اور جناب سہیل رضا ڈھوڈی صاحب کا بیحد مشکور ہوں کہ ان سب کے بغیر یہ مشن کبھی بھی شروع نہیں ہو سکتا تھا خاص طور پہ عاطف سعید بھائی کہ جن کی دن رات کی محنت و لگن کے باعث سر علامہ اقبالؒ فورم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
میرا بلاگ نقشِ فریادی جو کہ کسی دور میں نوائے پریشاں ہوا کرتا تھا، وہ بھی اسی سال وجود میں آیا۔اسی سال مجھے جناب محترم اعجاز عبید صاحب ، جناب یعقوب آسی صاحب، جناب سرور عالم راز صاحب اور جناب فاروق درویش صاحب، جناب محمد وارث صاحب کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔
اس کے علاوہ بہت سے نئے دوست بھی بنے۔ جن میں یاسر حنیف سرِ فہرست ہے۔ اور مغزل بھائی، اسد قریشی صاحب، اویس بھائی، نیرنگ خیال بھائی، انیس الرحمن بھائی، عاطف بٹ بھائی، بابا جی، حسیب بھائی، قیصرانی انکل کے ساتھ ساتھ جناب سید زبیر صاحب، جناب طارق شاہ صاحب، جناب الف نظامی صاحب، جناب یوسف صاحب، شمشاد بھائی، اور وہ بھی کہ جن کے نام اس وقت یاد نہیں آ رہے، ان سب سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اور دیکھا جائے تو سیکھنے کے معاملے میں یہ سال میرے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔
ان سب باتوں سے ہٹ کر، جو چیز ہمیں زندگی میں سب سے پریشان کرتی ہے، وہ خود ہماری پریشانیاں ہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل سے لگا لینا بڑی بڑی بیماریوں اور غموں کا سبب بنتا ہے اور پھر یہی غم انسان کو موت کی نیند سُلا دیتے ہیں۔ احمد فراز نے کیا خوب کہا ہے کہ
اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اس کے
کہ زندگی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں
ہمیں پریشانیوں کو اپنے مضبوط ارادوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے.
شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا ہے کہ
ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
اس چھوٹی سی نظم کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں کہ
نئے سال کی آمد ہے
زندگی پھر بھی جامد ہے
آؤ اس زندگی کو رواں کر دیں
ناکامیوں کو ناکام کر دیں
نئے سال کی آمد پر
 نئی زندگی کا آغاز کر دیں

تنہائی


تنہائی
جب انسان کو اس دنیائے فانی میں پیدا کیا گیاتو وہ ہر چیز سے نا آشنا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ انسان اس دنیا کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوتا گیا۔ انسان نے اپنی بشری کمزوریوں کو بھی محسوس کیا۔ اسی وجہ سے انسان نے قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی پہچان کی جا سکے اور ایک دوسرے پر انحصار کیا جا سکے۔ 
انسان فطری لحاظ سے جلوت کو خلوت پہ ترجیح دیتا آیا ہے۔وہ لوگوں سے ملنے جلنے اور تعلقات بڑھانے کو بہتر سمجھتا ہے، مگر ایک اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو تنہائی پسند ہوتے ہیں۔لیکن یہ تنہائی ہی ہے جو انسان کو اللہ کے بھی قریب کر دیتی ہے اور شیطان کے بھی۔ انسان کے اصل انسانی پن کا اظہار تنہائی میں ہوتا ہے۔ تنہائی میں انسان کا باطن زیادہ کھل کر سامنے آتا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے
شرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو
تنہائی خوف کا جنم دیتی ہے اور خوف پر قابو پانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ایک سروے کے مطابق دنیا میں تقریباََ 25% لوگ ایسے ہیں جو تنہائی سے خوف محسوس نہیں کرتے جبکہ 16.55% ایسے ہیں جو تنہائی سے خار کھاتے ہیں۔ ایشیا میں یہ تعداد بلترتیب 41.67% اور8.33%ہے جبکہ یورپ میں یہی تعداد 19.57% اور 17.39%ہے۔
ایسے لوگ جو تنہائی سے خوف کھاتے ہیں ان میں تنہائی سے ڈپریشن ، ٹینشن جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جس سے انسان معاشرے سے کٹ جاتا ہے، وہ خود کو زمانے کی نظروں میں حقیر سمجھنے لگتا ہے، جبکہ زمانہ نھی پھر ایسے شخص کو ایک بوجھ سمجھتا ہے۔
اردو شاعری میں بھی تنہائی پہ بہت لازوال اشعار تخلیق کیے جا چکے ہیں، مگراداس ناصر کاظمی کی اس غزل کا شاید ہی کوئی بدل اردو شاعری میں موجود ہو۔
تنہائی کا دکھ گہرا تھا
میں دریا دریا روتا تھا
ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ
میں طوفانوں سے کھیلا تھا
تنہائی کا تنہا سایا
دیر سے میرے ساتھ لگا تھا
چھوڑ گئے جب سارے ساتھی
تنہائی نے ساتھ دیا تھا
سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی
تنہائی کا پھول کِھلا تھا
تنہائی میں یادِ خدا تھی
تنہائی میں خوفِ خدا تھا
تنہائی محرابِ عبادت
تنہائی منبر کا دیا تھا
تنہائی مرا پائے شکستہ
تنہائی مرا دستِ دعا تھا
وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا
تنہائی مرے دل کی جنت
میں تنہا ہوں، میں تنہا تھا
(محمد بلال اعظم)

خوش نصیب

خوش نصیب

”خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے“
(واصف علی واصف)
واصف علی واصف کا کہا گیا یہ ایک فقرہ پوری انسانی زندگی کا خلاصہ ہے۔ ہم ایک مطمئن زندگی اِس اصول پہ عمل کر کے گزار سکتے ہیں۔ ہمارا دامن شیشے کی طرح صاف اور پانی کی طرح شفاف ہو سکتا ہے۔ ہمارا ایمان کامل ہو سکتا ہے۔ ہمارا اللہ پر یقین اور مضبوط ہو سکتا ہے۔ صرف یہ سوچ کر کہ مالکِ کائنات نے جو ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہی سب سے بہتر ہے۔ ہم اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ہمارا پروردگار ہے، اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور پھر ایک بنانے والا اپنی چیز کے بارے زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اُس کے لئے کیا اچھا ہے اور کیابرا ہے۔ مگر ہم انسان شاید ہم نے اِس سوچ کو اپنی سرشت کا حصہ بنا چکے ہیں اگر یہ ہوتا تو زیادہ اچھا تھا، اگر وہ ہوتا تو زیادہ اچھا تھا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جو ہو گیا وہی سب سے بہتر تھا۔
میں اس زمن میں ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا کہ ایک شخص ہر قسم کی دنیاوی دولت سے مالا مال ہے، عزت، شہرت، روپیہ، پیسہ ہر نعمت اُس کو میسر ہے، مگر پھر بھی وہ پریشان رہتا ہے، کسی تذبذب کا شکار ہے، کوئی انجانا غم اُس کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے، اس کو کسی صورت اطمینان نصیب نہیں ہو رہا۔ اسی کیفیت کی وجہ سے گھر میں ہر وقت بے سکونی فضا چھائی رہتی ہے، لڑائی جھگڑا معمول بن گیا ہے، المختصر کہ ہر چیز ہوتے ہوئے بھی کچھ میسر نہیں ہے۔ جبکہ اس کے برعکس وہ شخص جو فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر رہا ہے، تنگ دست بھی ہے، تہی دست بھی، مگر اس کا دل ایمان و یقین کی دولت سے مالامال ہے، کچھ نہ بھی ہوتے ہوئے سب کچھ میسر ہے۔ اس کا قلب نور کی دولت سے مالا مال ہے۔ وہ اپنے نصیب پر خوش ہے۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتا ہے اور بقول کسے ”یہ خود انفرادیت بہت بڑا اعزاز ہے“۔“
خوش نصیبی کا تعلق ہم علامہ اقبال کے فلسفہءخودی کے ساتھ بھی جوڑ سکتے ہیں  کہ جس انسان کو اللہ پر جتنا کامل یقین ہو، وہ اتنا زیادہ خودی کے قریب ہو جاتا ہے اور سکونِ قلب کی دولت انسان کے قدموں میں بچھتی چلی جاتی ہے۔ بے شک اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کوسکون ملتا ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کے ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آ رہا ہے، آپ سے شئیر کر دیتا ہوں، کہا جاتا ہے کہ کسی گاﺅں میں دو بھائی رہتے تھے، ایک دفعہ ایک چڑیا اُن کے پاس آئی اور کہا کہ میں دور دیس جا رہی ہوں، میں وہاں سے تمہیں ہر سال دو پتے لا کر دیا کروں گی، ایک اطمینان کا پتہ اور ایک دولت کا پتہ، تمہیں کون کونسا پتہ چاہئے، بڑے بھائی نے اطمینان کا پتہ اور چھوٹے بھائی نے لالچ کی وجہ سے دولت کا پتہ منگوایا۔چڑیا اُن کو پتے لا کر دیتی رہی۔ بڑا بھائی غریب رہا مگر مطمئن زندگی بسر کرتا رہا جبکہ چھوٹا بھائی امیر ہوتا گیا مگر لڑائی جھگڑے بڑھتے رہے۔ یہاں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ پیسہ دنیاوی سکون تو بے شک مہیا کر دے مگر روحانی سکون صرف اطمینانِ قلب سے ہی میسر آتا ہے اور یہ اسی انسان کے حصے میں آ سکتا ہے، جو اپنے نصیب پر خوش ہے نہ کہ اس انسان کے حصے میں جو ہر وقت محرومئی آرزو کا شکوہ کرتا پھرے۔
محرومئی آرزو کا شکوہ کرنا
ہے رنج میں اور رنج پیدا کرنا
(محمد بلال اعظم)


شئیر کیجیے

Ads 468x60px