!اے میرے سارے لوگو

!اے میرے سارے لوگو

اب میرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو
اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی
اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو
اس سے پہلے مری شہ رگ کا لہو چاٹ چکی

پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں
پھر مرے شہر میں بارود کی بُو پھیلی ہے
پھر سے ”تُو کون ہے میں کون ہوں“ آپس میں سوال
پھر وہی سوچ میانِ من و تُو پھیلی ہے

مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر ہوئیں عام وہی اہلِ ریا کی باتیں
نعرئہ حُبِّ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبحِ وحشت کی طرح شامِ غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشہءدل کی طرح آئینہءجاں کی طرح

پھر کہاں احمریں ہونٹوں پہ دعاﺅں کے دیے
پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا
صندلیں پاﺅں سے مستانہ روی روٹھ گئی
مرمریں ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بال رویا
مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیم
نوکِ دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر

آج ایسا نہیں، ایسا نہیں ہونے دینا
اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی
میرے دل گیر مرے درد کے مارے لوگو
کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لئے
خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو

(احمد فراز)
(پس انداز موسم)

No Response to "!اے میرے سارے لوگو"

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


شئیر کیجیے

Ads 468x60px