قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں اقبال کی فکری ہم آہنگی


:قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں اقبال کی فکری ہم آہنگی



مسلمانان ہند جب تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے تھے، فکری انتشار کے باعث جب قوم ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی تھی، قائداعظم محمد علی جناح بکھری ہوئی قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ انتشار کے اس دور میں علامہ اقبال کے افکار عالیہ کی منزل کی نشاندہی کی جس کی بدولت جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان دو عظیم راہبروں کی نظریاتی مطابقت تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے۔ تحریک پاکستان کے پس منظر میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کو مدّمقابل حکمراں انگریز اور کانگریس کے اسلام دشمن گٹھ جوڑ سے نبردآزما ہونا تھا۔ ان نامساعد حالات میں مشیت ایزدی کا ظہور جہاں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی مدظلہہ العالی کی بشارت سے ہوا کہ نبی پاکﷺ نے صحابہ کرام کے دربار میں قائداعظم کو معانقہ کا شرف بخشا اور آپ کو ملت اسلامیہ کا مونس قرار دیا، وہیں اقبال جن کے رگ و پے میں اس انداز سے عشق رسول سرایت کرگیا تھا کہ روضہ اطہر پر حاضری کی تڑپ، آنکھوں سے سیلاب اشک جاری تھا۔ اقبال مسلمانوں کے سیاسی و اقتصادی مسائل کا حل نظام شریعت کے نفاذ میں سمجھتے تھے۔ اس پاکیزہ مقصد کے حصول کے لئے ایک علیحدہ وطن کی نشاندہی وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ الہ آباد 1930ء میں کرچکے تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کے دل سے قائل تھے۔
 ایک نجی محفل کے دوران علامہ اقبال کی قیام گاہ پر احباب جمع تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کی ذہانت، فراست اور تدبر کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ علامہ نے فرمایا محمد علی جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو ہندوستان کے کسی اور رہنما میں نظر نہیں آتی۔ احباب میں سے کسی نے دریافت کیا کہ وہ خوبی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ ان کی امانت، دیانت، صداقت ہے۔ انہیں کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔
 علامہ اقبال نے جو خطوط قائداعظم محمد علی جناح کو تحریر کئے ہیں، ان کے ترجمے مختلف صاحبان علم و فضل نے کئے ہیں۔ محمد جہانگیر عالم صاحب نے جس عرق ریزی کے ساتھ انہیں مرتب کیا ہے، تاریخ پاکستان کا بیش بہا سرمایہ ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال کے خطوط کے بارے میں تہنیت کے جن الفاظ کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے، لائق قدردانی ہیں۔ فرمایا یہ خطوط میرے نام اسلام کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی عارف ( یہ وہ دور تھا جب تک مسلم لیگ کے رہنماؤں نے قائداعظم کی اپیل پر سر کا خطاب واپس نہیں کیا تھا ) ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم نے اپنی وفات سے قبل مئی 1936ء تا نومبر 1937ءکے درمیان تحریر کئے ہیں۔ یہ دور جو جون 1936ءآل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے قیام اور اکتوبر 1937ءمیں لکھنو ءکے تاریخی اجلاس کے دوران تک محیط ہے۔ مسلم ہند کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ لکھنوءاجلاس اس اَمر کی نشاندہی کا باعث بنا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ اور با اختیار جماعت ہے اور عوامی سطح پر اس کی تنظیم ہونا چاہئے۔ ان دونوں مقاصد کے حصول میں، میں اپنے دوستوں میں جن میں ڈاکٹر سر محمد اقبال شامل ہیں کے انمول تعاون حب الوطنی اور بے غرض مساعی کی بدولت کامیاب ہو سکا ہوں۔ چنانچہ مسلم لیگ کو ہر صوبے میں 70% فیصد کامیابی
 حاصل ہوئی ہے۔ مسلم لیگ کو شاندار کامیابی تک پہنچانے میں ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اقبال کے وہ خطوط جو اس سلسلے میں انہوں نے مجھے لکھے زبردست تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، بالخصوص وہ خطوط جن میں مسلم ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات کا واضح اور غیر مبہم اظہار ہے۔ ان کے خیالات پورے طور پر میرے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور بالآخر میں ہندوستان کے دستوری مسائل کے مطالعہ اور تجزیئے کے بعد انہی نتائج پر پہنچا اور کچھ عرصے کے بعد یہی خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کی اس متحدہ خواہش کی صورت میں جلوہ گر ہوئے جس کا اظہار آل انڈیا مسلم لیگ کی 23 مارچ 1940ءکی منظور کردہ قرارداد لاہور ہے، جو عام طور پر قرارداد پاکستان کے نام سے موسوم ہے۔قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ایک دن قائداعظم نے اپنے سیکریٹری سید مطلوب الحسن (1984-1915) سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اقبال ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ اگر زندہ ہوتے تو یہ جان کر بہت خوش ہوتے کہ ہم نے بالکل ایسے ہی کیا جس کی وہ ہم سے خواہش کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے بڑے ہی افسوس کے ساتھ مجھے موجودہ نازک ترین دور میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنے عظیم رہنماؤں کے کردار اور اوصاف حمیدہ اور تحریک پاکستان کے محرکات کو یکسر فراموش کر کے ہزیمت کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ نتیجہ بجز رسوائی اور ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائداعظم اور دیگر زعماء پاکستان کے کارناموں کو اجاگر کیا جائے۔ مسلمہ اصول ہے جس چیز کا چرچا رہتا ہے وہ زندہ رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بانیان پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔
(اپنا مقام پیدا کر)

No Response to "قائداعظم کی سیاسی بصیرت میں اقبال کی فکری ہم آہنگی"

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


شئیر کیجیے

Ads 468x60px