Showing posts with label ابنِ انشاء. Show all posts
Showing posts with label ابنِ انشاء. Show all posts

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا


غزل

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نہ کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردا تیرا

اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا

بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا

ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا

دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا


اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی، ہم کو سہی سودا تیرا

ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا 

ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شہر ہوا کیا کیا تیرا

بے درد، سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا
(ابن انشاء)

ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی


ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی 


ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی 

ا ب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں ا پنی جا ں کے خزانے سے 
ہا ں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ا دھر کا آیا کیوں 
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں

ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے
ہا ں ا ور خرا ج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں ا س مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
ا ب گیت گیا سنگیت گیا
ہا ں شعر کا موسم بیت گیا
ا ب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ ا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ا ن سب کے پاس ہے مال بہت
ہا ں عمر کے ماہ و سال بہت
ا ن سب کو ہم نے بلایا ہے
ا ور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاو ¿ ا ن سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آ خر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو ا س سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا

تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہا ں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہے
کیا سود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی ا ور خرا ج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہا ں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہا ں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں 
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ ا ور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو ا پنے جی میں ا تار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا
(ابن انشاء)

چل انشاءاپنے گاؤں میں




چل انشاءاپنے گاؤں میں

یہاں اُلجھے اُلجھے روپ بہت
پر اصلی کم، بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو، دھوپ بہت
چل انشاءاپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں

کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟
یہاں ہر اِک بات نرالی ہے
اِس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاءاپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں

جہاں سچے رشتے یاریوں کے
جہاں گھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سکھ والے
جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاءاپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں
(ابنِ انشاء)



شئیر کیجیے

Ads 468x60px