Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts
Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts

یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے


غزل

یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے
خدا یہ وقت تری آنکھ کو نہ دِکھلائے 

اُسی کے نام سے لفظوں میں چانداُترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے 

جو کھو چکے ہیں اُنہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے
جو جا چکے ہیں اُنہیں کوئی کس طرح لائے

کلی سے میں نے گلِ تر جسے بنایا تھا
رُتیں بدلتی ہیں کیسے، مجھے ہی سمجھائے 

جو بے چراغ گھروں کو چراغ دیتا ہے
اُسے کہو کہ مِرے شہر کی طرف آئے 

یہ اضطرابِ مسلسل عذاب ہے امجد
مِرا نہیں تو کسی اور ہی کا ہو جائے
(امجد اسلام امجد)

کیوں ؟


کیوں ؟

ہر موج کے دامن میں بیدار جو دریا ہے
اک ریت کے ذرے میں آباد جو صحرا ہے
کیا اُس کی وضاحت ہے کیا اس کا تقاضا ہے
جو سامنے آتا ہے منظر ہے کہ پردہ ہے 

بے انت سوالوں کی زنجیر ہے یہ دنیا
اُس عکس کے سایوں کی تصویر ہے یہ دنیا
جس عکس کے جلوے کو ہر آنکھ ترستی ہے
ہے ایک گھٹا ایسی ، کُھلتی نہ برستی ہے

کیوں رنگ نہیں رُکتے ، کیوں بات نہیں چلتی
کیوں چاند نہیں بھُجتا کیوں رات نہیں جلتی


موسم کی صدا سن کر کیوں شاخ لرزتی ہے
کیوں اوس کف ِ گُل پر پل بھر کو ٹھہرتی ہے
کیوں خواب بھٹکتے ہیں کیوں آس بکھرتی ہے
اس ایک تسلسل سے کیوں وقت نہیں تھکتا
بس ایک تحیر میں کیوں عمر گزرتی ہے
(امجد اسلام امجد)

شئیر کیجیے

Ads 468x60px