Showing posts with label متفرق شاعری. Show all posts
Showing posts with label متفرق شاعری. Show all posts

شور ہے ہر طرف سحاب سحاب

شور ہے ہر طرف سحاب سحاب
ساقیا! ساقیا! شراب! شراب

آبِ حیواں کو مَے سے کیا نسبت!
پانی پانی ہے اور شراب شراب!

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب

اک وہی مستِ با خبر نکلا
جس کو کہتے تھے سب خراب خراب

مجھ سے وجہِ گناہ جب پوچھی
سر جھکا کے کہا شباب شباب

جام گرنے لگا، تو بہکا شیخ
تھامنا ! تھامنا! کتاب! کتاب!

کب وہ آتا ہے سامنے کشفی
جس کی ہر اک ادا حجاب حجاب
(کشفی ملتانی)

اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی



اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

سوچو تو پور پور ہے تھکن تھکن سے چُور چُور
دیکھو تو طے ذرا سی مسافت نہ ہو سکی

کچھ دیر جلتا رہا ہواؤں کے رو برو
گھر کے دیے سے اتنی مروت نہ ہو سکی

سب کچھ اسی کے دم سے تھا محمود، اس کے بعد
کارِ جہانِ تازہ سے رغبت نہ ہو سکی
(محمود غزنوی)

تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے


غزل
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

شہر کے یہ باشندے نفرتوں کو بو کر بھی انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی
بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

تم ابھی نئے ہو نہ اِس لئے پریشان ہو، آسمان کی جانب اس طرح مت دیکھو
آفتیں جب آنی ہوں ٹوٹنا ستاروں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

اجنبی فضاﺅں میں اجنبی مسافر سے اپنے ہر تعلق کو سمجھ لینا
اور جب بچھڑ جانا مانگنا دعاﺅں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

خامشی مرا شیوہ، گفتگو ہنر اس کا، میری بے گناہی کو لوگ کیسے مانیں گے
بات بات پہ جبکہ مانگنا حوالوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
(مرغوب حسین طاہر)

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح


غزل

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح
جسم سلگا ہے تری یاد میں ایند ھن کی طرح

دی ہیں کسی قرب کی خواہش نے مجھے
کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح

اس بلندی سے مجھے تو نے نوازا کیوں تھا
گر کے میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی کی طرح

مجھ سے ملتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی
میں ترے دل میں سما جاﺅں گا دھڑکن کی طرح

اب زلیخا کو نہ بدنام کرے گا کوئی
اس کا دامن بھی دریدہ، مرے دامن کی طرح

منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لئے
زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح

نہ کوئی راہ اجالی، نہ شبستا ن جلا
ٹمٹماتا ہو ںچراغ سرِ مدفن کی طرح
(مرتضیٰ برلاس بیگ)



شئیر کیجیے

Ads 468x60px