شور ہے ہر طرف سحاب سحابساقیا! ساقیا! شراب! شرابآبِ حیواں کو مَے سے کیا نسبت!پانی پانی ہے اور شراب شراب!رند بخشے گئے قیامت میںشیخ کہتا رہا حساب حساباک وہی مستِ با خبر نکلاجس کو کہتے تھے سب خراب خرابمجھ سے وجہِ گناہ جب پوچھیسر جھکا کے کہا شباب شبابجام گرنے لگا، تو بہکا شیختھامنا ! تھامنا! کتاب! کتاب!کب وہ آتا ہے سامنے کشفیجس کی ہر اک ادا حجاب حجاب(کشفی ملتانی)
Showing posts with label متفرق شاعری. Show all posts
Showing posts with label متفرق شاعری. Show all posts
اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
7/16/2012 12:57:00 pm
Unknown
اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی
سوچو تو پور پور ہے تھکن تھکن سے چُور چُور
دیکھو تو طے ذرا سی مسافت نہ ہو سکی
کچھ دیر جلتا رہا ہواؤں کے رو برو
گھر کے دیے سے اتنی مروت نہ ہو سکی
سب کچھ اسی کے دم سے تھا محمود، اس کے بعد
کارِ جہانِ تازہ سے رغبت نہ ہو سکی
(محمود غزنوی)
Posted in
متفرق شاعری
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
3/07/2012 08:43:00 am
Unknown
غزل
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
شہر کے یہ باشندے نفرتوں کو بو کر بھی انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی
بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
تم ابھی نئے ہو نہ اِس لئے پریشان ہو، آسمان کی جانب اس طرح مت دیکھو
آفتیں جب آنی ہوں ٹوٹنا ستاروں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
اجنبی فضاﺅں میں اجنبی مسافر سے اپنے ہر تعلق کو سمجھ لینا
اور جب بچھڑ جانا مانگنا دعاﺅں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
خامشی مرا شیوہ، گفتگو ہنر اس کا، میری بے گناہی کو لوگ کیسے مانیں گے
بات بات پہ جبکہ مانگنا حوالوں کا، رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
(مرغوب حسین طاہر)
Posted in
متفرق شاعری
آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح
3/02/2012 10:16:00 am
Unknown
غزل
آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح
جسم سلگا ہے تری یاد میں ایند ھن کی طرح
دی ہیں کسی قرب کی خواہش نے مجھے
کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح
اس بلندی سے مجھے تو نے نوازا کیوں تھا
گر کے میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی کی طرح
مجھ سے ملتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی
میں ترے دل میں سما جاﺅں گا دھڑکن کی طرح
اب زلیخا کو نہ بدنام کرے گا کوئی
اس کا دامن بھی دریدہ، مرے دامن کی طرح
منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لئے
زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح
نہ کوئی راہ اجالی، نہ شبستا ن جلا
ٹمٹماتا ہو ںچراغ سرِ مدفن کی طرح
(مرتضیٰ برلاس بیگ)
Posted in
متفرق شاعری
Subscribe to:
Posts (Atom)




