تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے از شان الحق حقّی


شان الحق حقی کی غزل:
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے



دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

ہم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
کم نگاہی کے لیے عذر نا چاہے جاتے

کاش اے ابرِ بہاری! تیرے بہکے سے قدم
میری امید کے صحرا بھی گاہے جاتے

ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
ہے فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
اور کچھ دن غم ہستی سے نبھائے جاتے

2 Response to "تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے از شان الحق حقّی"

IMI said... Best Blogger Tips[کمنٹ کا جواب دیں]Best Blogger Templates

بہت عمدہ غزل ہے جی،

Anonymous said... Best Blogger Tips[کمنٹ کا جواب دیں]Best Blogger Templates

شان الحق حقی کی یہ غزل ناہید اختر نے گائی ہے، اور احمد فراز کی غزل غلام علینے، مگر نصیر تُرابی کی غزل کسی نے نہیں گائی۔۔۔
اگر گائی ہے تو برائے مہربانی اُس کا لنک شیئر کیجیئے
جہاں تک بلاگ کی بات ہے تو بہت ہی اعلی بلاگ ہے

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


شئیر کیجیے

Ads 468x60px