قتلِ عشاق میں اب عذر ہے کیا بسم اللہ


قتلِ عشاق میں اب عذر ہے کیا بسم اللہ
سب گنہگار ہیں راضی بہ رضا بسم اللہ

میکدے کے ادب آداب سبھی جانتے ہیں
جام ٹکرائے تو واعظ نے کہا بسم اللہ

ہم نے کی رنجشِ بے جا کی شکایت تم سے
اب تمہیں بھی ہے اگر کوئی گِلا بسم اللہ

بتِ کافر ہو تو ایسا کہ سرِ راہگزار
پاؤں رکھے تو کہے خلقِ خدا بسم اللہ

ہم کو گلچیں سے گِلا ہے گل و گلشن سے نہیں
تجھ کو آنا ہے تو اے بادِ صبا بسم اللہ

گرتے گرتے جو سنبھالا لیا قاتل نے فراز
دل سے آئی کسی بسمل کی صدا، بسم اللہ

(احمد فراز)
(اے عشق جنوں پیشہ، ص30)

No Response to "قتلِ عشاق میں اب عذر ہے کیا بسم اللہ "

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


شئیر کیجیے

Ads 468x60px